أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
۞
سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کا معمولِ خاص

طریقِ ختم خواجگان

رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین

تعارف

ختم خواجگان سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کا ایک قدیم اور مسنون معمول ہے، جو خواجگانِ نقشبند رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے چلا آ رہا ہے۔ یہ ایک مخصوص ترتیب سے پڑھی جانے والی تلاوت، درود شریف اور اذکار پر مشتمل اجتماعی دعا ہے، جس کا ثواب سلسلہ کے تمام مشائخ اور اولیائے کرام کی ارواحِ طیبہ کو ایصال کیا جاتا ہے۔

آستانہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کمانوالہ شریف سیالکوٹ میں یہ ختم روزانہ سنتِ فجر سے قبل پڑھا جاتا ہے، اور نمازِ عصر کے بعد جامع مسجد عابد میں دوستوں کے ساتھ مل کر بھی ادا کیا جاتا ہے۔ ہر اتوار کی صبح خصوصی طور پر ختم خواجگان دوستوں کے ساتھ پڑھا جاتا ہے، جبکہ سالانہ عرسِ مبارک کے موقع پر بھی اجتماعی طور پر یہ ختم پڑھا جاتا ہے۔

طریقِ ختم

  1. سورۃ فاتحہ مع بسم اللہ — ایک بار، اور درود شریف — ایک بار، پھر سورۃ الم نشرح (سورۃ الشرح) — 79 بار۔
  2. سورۃ اخلاص مع بسم اللہ — ایک ہزار بار، پھر سورۃ فاتحہ مع بسم اللہ — ایک بار، اور درود شریف — ایک بار۔
  3. آیتِ کریمہ «لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ» — ایک بار، اور درود شریف — ایک بار۔
  4. کلماتِ طیبات — ایک بار، اور درود شریف — ایک بار۔
  5. پھر ذیل کے اسمائے مبارکہ میں سے ہر ایک کا ذکر ایک ایک بار کیا جاتا ہے: یا اللہ، یا عزیز، یا ودود، یا کریم، یا وہاب، یا حیُّ یا قیوم، حسبنا اللہ و نعم الوکیل، یا مغنی یا مصیر، یا قاضیَ الحاجات، یا حلَّ المشکلات، یا کافیَ المہمّات، یا شافیَ الامراض، یا مسبّبَ الاسباب، یا رافعَ الدرجات، یا مجیبَ الدعوات، یا امانَ الخائفین، یا خیرَ الناصرین، یا دلیلَ المتحیّرین، یا غیاثَ المستغیثین، یا فاتحَ المحجوبین، ربِّ آتِ مغلوب فانتصر، یا اللہ یا رحمٰن یا رحیم یا ارحم الراحمین ارحمنا — اور پھر درود شریف ایک بار پڑھ کر ختم مکمل کیا جاتا ہے۔

دیگر ختم ہائے

آستانہ عالیہ کمانوالہ شریف سیالکوٹ میں روزانہ سنتِ فجر سے قبل مندرجہ بالا ختم کے علاوہ چند دیگر ختم بھی ملا کر پڑھے جاتے ہیں، جن میں قدوۃ السالکین زبدۃ العارفین سیدنا و مرشدنا قبلہ عالم خواجہ حاجی عبدالکریم صاحب قدس سرہٗ — جن کی روضۂ منورہ کی زیارت کو باشارت زاد اللہ شرفاً کہا جاتا ہے — کے لیے ایصالِ ثواب کی نیت شامل ہوتی ہے۔

یہ ختم درود شریف ایک بار سے شروع ہو کر «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيمِ، أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ رَبِّي مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» سو (100) بار، پھر «عَلَيْهِ فَاغْفِرْ لِي» پچاس (50) بار، پھر درود شریف ایک بار، پھر «حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، نِعْمَ الْمَوْلَىٰ وَنِعْمَ النَّصِيرُ» ایک بار، پھر «يَا خَفِيَّ اللُّطْفِ أَدْرِكْنِي بِلُطْفِكَ الْخَفِيِّ» ایک بار، پھر درود شریف ایک بار، پھر «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ» ایک بار، پھر درود شریف ایک بار، اور آخر میں «يَا اللّٰهُ يَا رَحْمٰنُ يَا رَحِيمُ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ ارْحَمْنَا» کے بعد درود شریف ایک بار پڑھ کر مکمل کیا جاتا ہے۔

شجرۂ مقدسہ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ

ختم خواجگان کے بعد آستانہ عالیہ پر شجرۂ مقدسہ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا ورد بھی معمول ہے — ایک منظوم دعا جس میں سلسلہ کے اکابر مشائخ کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ کے حضور فضل و رحمت کی درخواست کی جاتی ہے۔ یہ شجرہ سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے شروع ہو کر حضرت سلمان فارسی، امام جعفر صادق، بایزید بسطامی، خواجہ یوسف ہمدانی، خواجہ عبدالخالق غجدوانی، خواجہ محمود انجیر فغنوی، خواجہ علی رامیتنی، بابا سماسی، حضرت میر کلال، خواجہ بہاؤالدین نقشبند، خواجہ علاؤالدین عطار، حضرت یعقوب چرخی، خواجہ عبیداللہ احرار، خواجہ محمد باقی باللہ اور مجدد الف ثانی حضرت شیخ احمد سرہندی رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین جیسے اکابر خواجگانِ نقشبند سے ہوتا ہوا قبلہ عالم خواجہ حاجی عبدالکریم صاحب قدس سرہٗ تک پہنچتا ہے۔

اسی شجرہ کا تسلسل کمانوالہ شریف کے چاروں مشائخ — حضرت پیر سید راجن علی شاہ، سید عابد علی شاہ، سید اعظم علی شاہ اور سید جعفر علی شاہ رحمہم اللہ — کے ناموں پر آ کر مکمل ہوتا ہے، اور دعا کا اختتام موجودہ سجادہ نشین حضرت پیر سید عون رضا شاہ مدظلہ العالی کے حق میں دعائے خیر پر ہوتا ہے — کہ اللہ تعالیٰ اپنا فضل و کرم ان پر بھی جاری رکھے، مریدین کو ان کے سایہ میں تاقیامت رکھے، اور ان اکابرِ سلسلہ کے صدقے دین و دنیا میں برکت و آبرو قائم رہے۔

شجرہ مقدسہ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ