أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
→ تمام مشائخ
حضرت پیر سید اعظم علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ
پیر طریقت، رہبر شریعت، واقفِ رموزِ حقیقت و معرفت، زینتِ دنیائے تصوف

حضرت پیر سید اعظم علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ولادت: 11 ستمبر 1946ء وصال: 7 مئی 2008ء کمانوالہ شریف، سیالکوٹ

تعارف

کسی ایک عظیم خاندان میں یکے بعد دیگرے عظیم المرتبت شخصیات کا وجود نعمتِ خداوندی سے کم نہیں ہے۔ آستانہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کمانوالہ شریف سیالکوٹ کو دیکھیں تو اس خانوادۂ معرفت میں ایسی سر بلند شخصیات کا وجود سامنے آتا ہے جنہوں نے اپنے اسلاف کے معیار کو جاودانی عظمت عطا کی۔

پیر طریقت رہبر شریعت پیر راجن علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے فرزندِ ارجمند حضرت پیر سید عابد علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ اور پھر آپ کے پوتے، رہبر طریقت پیر سید اعظم علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے جس شان کے ساتھ اپنے جدِ امجد کے روحانی سلسلے کو آگے بڑھایا، اس کا تذکرہ ہر لحاظ سے ایمان افروز ہے۔

حضرت پیر سید اعظم علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ اپنے اوصافِ حسنہ اور عادات عالیہ کے لحاظ سے اپنے دادا کی حقیقی تصویر تھے — وہی جلال قلندرانہ، وہی جمال معرفت، وہی روحانی ادائیں۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ ریاکاری کی عبادت سے نفرت فرماتے تھے۔ اپنے نیاز مندوں کو یہی نصیحت فرماتے کہ عبادت و ریاضت محض خدا تعالیٰ کے لیے ہوتی ہے، خلقِ خدا میں ناموری حاصل کرنے کے لیے نہیں۔ اسی لیے آپ کا لباس بھی عام درویشوں کی طرح نہیں تھا — کم قیمت دستار مبارک زیبِ سر رکھتے تھے۔

کشف و کرامات

بدلتی تقدیر

عبدالرؤف مغل سیالکوٹ شہر سے حضرت صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی کرامت بیان کرتا ہے کہ ایک ماہر نجومی نے اس کے ہاتھ کی لکیروں سے حساب لگا کر بتایا کہ پانچ سال میں اس کی موت واقع ہو جائے گی۔ ڈر کر حضرت صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ جاؤ اپنا حساب دوبارہ لگواؤ۔ دوبارہ نجومی کے پاس گیا تو نجومی حیران رہ گیا کہ ہاتھوں کی لکیریں اور نام کا برج دونوں بدل گئے ہیں۔

وصال سے قبل کی خبر

حاجی محمد بشیر، مؤذن جامع مسجد عابد کمانوالہ سیالکوٹ، فرماتے ہیں کہ علالت کے آخری ایام میں حضرت صاحب عصر کی نماز کے بعد فرمانے لگے کہ آج سے ہم نے ہر قسم کی دوائی کھانی چھوڑ دی ہے، اب ہم نے بالکل ٹھیک ہو جانا ہے۔ دو دن بعد اس فانی دنیا سے آپ رحمۃ اللہ علیہ پردہ فرما گئے۔

لاعلاج مریضوں کو شفاء

ایک مرید نے عرض کی کہ اس کی بیوی سخت بیمار ہے اور زندگی کی کوئی امید باقی نہیں۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ اپنے گھر جاؤ، ایک چادر اپنی بیوی کے اوپر ڈال دو۔ چند دیر بعد اس بیمار عورت کی طبیعت بالکل ٹھیک ہو گئی۔

پتھری کا ریزہ ریزہ ہو جانا

ایک مرید کو گردے کی پتھری کی سخت تکلیف تھی، مختلف علاج بےفائدہ رہے۔ حضرت صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک تعویز لکھ کر دیا اور پانی میں ڈال کر پینے کو کہا — دو دن میں پتھری ریزہ ریزہ ٹوٹ کر خارج ہو گئی۔

جنتی ہونے کی سند

وصال سے چند دن قبل آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ اعزاز بخشا ہے کہ جو شخص میرا جنازہ پڑھے گا اسے جنتی ہونے کی سند مل جائے گی۔

روحانی تعلیمات

حضرت پیر سید اعظم علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی سب سے بڑی کرامت یہی ہے کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے مردہ دلوں کو زندہ کر دیا، گمراہوں کو جادۂ حق پر گامزن کر دیا، بے یقینوں کو ایمان و یقین کی دولت عطا کی، اور جاہ و مال کے پرستاروں کے دل و جان کو خدا اور رسول خدا ﷺ کی محبت بخشی۔

وصال پر ملال

حضرت صاحب اپنی عمر شریف کے آخری برسوں میں اکثر بیمار رہنے لگے تھے۔ میو ہسپتال لاہور میں داخل ہوئے۔ شوگر، بلڈ پریشر اور فالج نے آپ کی صحت کو بے بس کر کے رکھ دیا، اور آپ اللہ کی رضا پر راضی تھے۔ وصالِ باکمال کی تاریخ 30 ربیع الثانی 1429 ہجری بمطابق 07 مئی 2008ء ہے۔ مریدینِ ارادت کی کثیر تعداد اور ہر مسلک کے علماء نے جنازہ میں شرکت کی۔

ارشاداتِ قدسیہ

  1. سب سے بڑا وظیفہ اللہ کی یاد ہے۔
  2. ہماری طریقت کی بنیاد حضور ﷺ کی اتباع ہے۔
  3. جب برائی سننے کو ناپسند کرتا ہے تو اسی طرح اپنی مدح سرائی سے بھی بچ۔
  4. شیطان کو سب سے پیارا بخیل مسلمان اور ناپسندیدہ گنہگارِ تائب ہے۔
  5. سب سے زیادہ سخت عذاب عالمِ بے عمل پر ہوگا۔
  6. فقیر پر سخاوت کر کے احسان نہ جتا، بلکہ اس کے قبول کرنے کو خود احسان مند ہو۔
  7. وہ دعوت سب سے بدتر ہے جس میں امیر بلائیں جائیں اور غریب و مسکین نہ بلائیں جائیں۔
  8. زیادہ سونا اور زیادہ کھانا انسان کو اندر سے تباہ کر دیتا ہے۔
  9. عمل کی سستی پر مغفرت کی امید ہے لیکن بد اعتقادی پر نہیں۔
  10. تو نفس کی تمنا پوری کرنے میں مصروف ہے اور وہ تجھ کو برباد کرنے میں مصروف ہے۔

اولادِ اطہار

آپ رحمۃ اللہ علیہ کے چھ صاحبزادے ہیں:

  1. صاحبزادہ حضرت علامہ پیر سید جعفر علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ
  2. صاحبزادہ سید امتیاز الحسن شاہ صاحب
  3. صاحبزادہ سید مظہر عباس شاہ صاحب
  4. صاحبزادہ سید زاہد علی شاہ صاحب
  5. صاحبزادہ سید شعیب الحسن شاہ صاحب
  6. صاحبزادہ سید اسد رضا شاہ صاحب