أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
→ تمام مشائخ
آستانہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کمانوالہ شریف
زبدۃ الاصفیاء، امام الاتقیاء، عارف شریعت، رہبرِ طریقت، شہنشاہِ اولیاء، منبعِ رشد و ہدایت

حضرت پیر سید عابد علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ

وصال: 13 جون 1973ء کمانوالہ شریف، سیالکوٹ

تعارف

زبدۃ الاصفیاء، امام الاتقیاء، عارف شریعت، رہبرِ طریقت، شہنشاہِ اولیاء، منبعِ رشد و ہدایت — سیدی ومرشدی جناب سید عابد علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کمانوالہ متصل سیالکوٹ کے رہنے والے تھے۔ آپ کے والدِ ماجد کا اسمِ گرامی حضرت پیر سید راجن علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ تھا، اور دادا کا نام جناب سید نیاز علی شاہ صاحب تھا۔

طریقت کی ابتدائی منازل آپ نے اپنے والد کے زیرِ سایہ طے کیں، اور خلافت و اجازت بھی اپنے والدِ صاحب ہی سے عطا ہوئی۔ زندگی کے ہر قدم پر شریعتِ مصطفوی ﷺ کو اپناتے اور دوسروں کو اپنانے کی تلقین کرتے۔

لباسِ مبارک

آپ کا لباس نہایت سادہ اور گرم صراپاؤں میں مبارک، وہی پرانی طرز کی موچی کا بنا ہوا دیسی جوتا پہنتے۔ لباس میں شلوار اور قمیض کو خاص اہمیت تھی۔ سر مبارک پر مونگیا رنگ کا عمامہ پہنتے، اور عمامے کے نیچے تنکوں کی بنی ہوئی سادہ ٹوپی پہنتے تھے۔ اکثر روزے سے ہوتے — کبھی چھ ماہ کے مسلسل روزے بھی بدستور چلتے رہتے۔

چہرہ مبارک نہایت خوبصورت تھا، رنگ سفید اور سرخ، ریش مبارک بمطابقِ سنت مگر تمام سفید تھی اور چہرے پر خوبصورتی لگ رہی تھی۔ قد درمیانہ اور جسم بھرا ہوا تھا، دانتِ مبارک موتیوں کی طرح چمکتے دکھائی دیتے۔

سادگی اور مہمان نوازی

آپ رحمۃ اللہ علیہ حلیم، طبع منکسر المزاج، بردبار اور اخلاقِ حسنہ سے متصف تھے۔ سادہ غذا کھاتے، اور کسی بھی عالمِ مرید کے ہاں تشریف لے جاتے تو اسے کھانے کی بندوبست کرنے میں کوئی تکلیف محسوس نہ ہوتی۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ دسمبر 1971ء کی جنگ کے اختتام پر سرکار دورہ پر تشریف لائے۔ ایک سکول میں بچوں کو پڑھانے میں مصروف تھا کہ حضرت صاحب کی آمد ہوئی۔ ادب کے ساتھ کھڑا ہوا قدم بوسی کی اور سرکار کے میزبانی کا بندوبست کرنے لگا، حالانکہ جنگ کی وجہ سے اس کا سامان دور دراز کہیں رشتہ داروں کے گھر رکھا ہوا تھا۔ سادہ ہی سہی، جو کچھ میسر تھا، حضرت صاحب نے نہایت خوشی سے تناول فرمایا اور رکھی سادگی کو پسند فرمایا۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ ہمیشہ پیدل سفر کرتے تھے۔ ایک دفعہ گرمیوں کے موسم میں سائیکل پر سوار ہو کر جانے کی پیشکش ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ نہیں، پیدل ہی چلیں گے کیونکہ یہ سنت ہے اور مجھے پیدل چلنے میں مزہ آتا ہے۔

طریقۂ عبادت

شیخِ کامل جناب سید عابد علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ پابندئ نمازِ باجماعت کے ساتھ مسجد میں ادا فرماتے تھے۔ سفر پر ہوتے تو بھی مسجد ہی میں جا کر نماز باجماعت ادا کرتے۔ فرض نماز کے علاوہ نوافل کی کثرت سے، خصوصاً نمازِ تہجد کے نوافل کو خاص اہمیت دیتے تھے۔

آدھی رات کے بعد بستر چھوڑ دیتے، مسجد میں جا کر تہجد ادا فرماتے، بعد میں قصیدہ اور اذکار پڑھتے، پھر ذکرِ کار میں مصروف ہو جاتے۔ فجر تک ذکر میں مشغول رہتے، پھر فجر کی سنتیں پڑھنے کے بعد بلند آواز سے درود و سلام پڑھتے اور دعا مانگتے۔ نمازِ اشراق ادا کر کے باہر تشریف لاتے اور ناشتہ فرما کر مریدین سے ملنے کا سلسلہ شروع کرتے۔ عصر کے بعد دستِ ذکرِ خواجگان اور دعائے حزب البحر کو خاص اہمیت دیتے تھے۔ رات کا بیشتر حصہ عبادتِ الٰہی میں گزارتے، بعض دفعہ ساری رات اللہ کے حضور سجدہ کرتے گزار دیتے۔

خوفِ خدا

میرے شیخِ کامل جناب سید عابد علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ پر خوفِ خدا ہر آن طاری رہتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ آپ اپنے عاجزی اور انکساری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ کسی کو دل ننداں نہ دکھاتے بلکہ آپ کی مجلس میں آنے والا آپ کے چہرے پر انور شفیق پا کر انور نارضگی کے آثار پیدا نہ ہوتے۔

ایک دفعہ اپنے مرید مولوی برکت علی صاحب مرحوم کے جنازے میں سرکار نے شرکت فرمائی اور نمازِ جنازہ خود پڑھائی۔ جنازہ کے بعد قبرستان میں ایک طرف سرکار کسی گئے بیٹھ کر سرکار کا چہرہ مبارک زرد ہو چکا تھا اور آنکھوں میں آنسو تھے۔ ارشاد فرمایا کہ تمام دوست ان دوستوں کے لیے دعا مانگو جو اس وقت زمین میں دفن ہو چکے ہیں۔

کشف و کرامات

جنگوں سے محفوظ رہنے والا گاؤں

محمد علی، وڑائچ کمانوالہ شریف کا رہائشی، بیان کرتا ہے کہ 1956ء میں ایک رات اس نے پیر سید عابد علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کو گاؤں کے اردگرد چکر لگاتے دیکھا۔ عرض کرنے پر حضرت صاحب نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ اس گاؤں پر عذاب آنے والا ہے، اسے اردگرد چکر لگا کر اٹھا دوں — اور اس کے لیے دعائے حزب البحر پڑھیں۔ چنانچہ 1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں یہ گاؤں دشمن کے گولوں سے محفوظ رہا، حالانکہ یہ بارڈر لائن کے بالکل قریب واقع ہے۔

اولاد کی بشارت

ملک فقیر سائیں، ساکن شادیوال سیالکوٹ، بیان کرتے ہیں کہ ان کے میاں بیوی کے کوئی اولاد نہیں تھی۔ حضرت صاحب سے درخواست کی کہ دعا کریں اللہ تعالیٰ اولاد عطا کرے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ دوسری شادی کر لو، اولاد ہو جائے گی۔ کچھ عرصے بعد دوسری شادی سے اللہ تعالیٰ نے اولاد سے سرفراز فرمایا — یہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے علمِ آئندہ کی کرامت ہے۔

رزق کے دروازے کھلنا

مولوی محمد الدین چنگا، سمبڑیال کے رہائشی، بیان کرتے ہیں کہ ان کی بیٹی کے گھر شدید غربت تھی۔ حضرت صاحب کو حال بتایا تو آپ رحمۃ اللہ علیہ اس کے ساتھ اس کی بیٹی کے گھر تشریف لے گئے، ساتھ رقم اور کچھ سامان بھی لے گئے۔ گھر پہنچ کر اپنی چادر اوڑھ کر آرام فرمانے لگے، اور کچھ دیر بعد اٹھ کر اپنی چادر بیٹی کے حوالے کر کے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ اس گھر کے رزق کے دروازے کھول دے۔ اس دن سے آج تک اس بیٹی کے گھر میں رزق کی فراوانی رہی۔

دلوں کا حال جاننا

ایک مرید کے دل میں یہ خیال آیا کہ کچھ پیری مریدی کرنے والے شریعت کی پیروی نہیں کرتے، پھر بھی پیری مریدی کا دھندا چلاتے ہیں۔ جب وہ دربارِ شریف حاضر ہوا تو حضرت صاحب نے بغیر پوچھے ہی اس کے دل کی بات کا جواب دے دیا، اور فقیروں کی راز کی باتوں کی مثال دے کر سمجھایا کہ اصل معاملہ اللہ اور بندے کے درمیان ہوتا ہے، ظاہری حال سے کسی کی ولایت پر حکم نہیں لگایا جا سکتا۔

مشکل کا حل — شجرۂ مشائخ

24 جون 1972ء کے عرس مبارک پر ایک شخص گھریلو پریشانی میں مبتلا تھا۔ رخصت ہوتے وقت حضرت صاحب نے بغیر عرض کیے ہی فرمایا کہ فکر نہ کرو، ایک نفل تہجد کے بعد ایک دفعہ "شجرۂ مشائخِ نقشبندیہ مجددیہ" پڑھ لیا کرو، اللہ تعالیٰ مشکلات میں آسانی فرما دیں گے۔

دور سے دردِ ٹانگ کا علاج

محمد حیات، ساکن جٹ سکن گجرات، بیان کرتے ہیں کہ ان کی بیوی کی ٹانگ میں سخت درد تھا۔ حضرت پیر سید عابد علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ اور سید چراغ علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ اس دن گھر تشریف لائے ہوئے تھے۔ تکلیف بیان کرنے پر حضرت صاحب نے دم کرنے کا فرمایا اور سید چراغ علی شاہ اسے لے کر ٹانگ پر ہاتھ مارنے لگے — چند لمحوں میں درد بالکل ختم ہو گیا۔

اللہ کے بندوں کو ڈرنا نہیں چاہیے

مولوی محمد لطیف، سوہل بھلیہ کے رہائشی، بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت صاحب کے ساتھ ایک خطرناک راستہ اختیار کیا گیا جہاں ڈاکوؤں کا ڈیرہ تھا۔ عرض کیا کہ دوسرا راستہ اختیار کر لیں، تو آپ نے فرمایا کہ اللہ کے بندوں کو کتوں سے ڈرنا نہیں چاہیے۔ ڈاکوؤں کے کتے قریب آ کر خاموشی سے بکھر گئے، اور راستے میں ایک زہریلا سانپ بھی محض اشارے پر بھاگ گیا۔

توہمات کا رد

ملک فقیر سائیں مزید بیان کرتے ہیں کہ ان کے ہاں بیک وقت دو جڑواں بچے پیدا ہوئے۔ رسمِ عام کے مطابق کچھ لوگ اسے منحوس سمجھتے تھے۔ حضرت صاحب نے اس توہم کو دین اسلام کے خلاف قرار دیا اور اس کی کوئی اصل نہ ہونے کا فرمایا، اور بچوں کو اپنے ہاں بلوا کر دیکھا اور دعا دی۔

سید چراغ علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول

آپ فرماتے تھے کہ میں ایک جاہل زمیندار تھا، جسے کاشتکاری اور مویشی چرانے کے سوا کسی چیز کا علم نہیں تھا — لیکن شیخ المشائخ سید راجن علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی نگاہ سے پُر بن گیا۔ نگاہِ ولی میں تاثیرِ ہزاروں کی تقدیریں بدلتی دیکھی ہیں۔ آپ کے رعب کا یہ عالم تھا کہ بڑے سے بڑے آدمی کو بھی سامنے بولنے کی جرات نہ ہوتی، اور خدمت میں جب کوئی روتا ہوا بچہ لایا جاتا تو آپ کے دم کرنے سے ہنستا ہوا واپس جاتا۔

ارشاداتِ قدسیہ

  1. وہ ولی نہیں ہو سکتا جو حضور اکرم ﷺ کی شریعتِ مطہرہ کے خلاف کام کرے، بلکہ وہ گمراہی کے ایسے گڑھے میں ہے جہاں سے نکلنا مشکل ہے۔
  2. جو لوگ صحابہ ثلاثہ (حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہم) کی مخالفت کرتے ہیں، ان گمراہوں کی مجلسوں سے پرہیز کرو۔
  3. جس زمین پر ولی اللہ چلتا ہے، وہ زمین دوسری زمین کو اس پر فخر کرتی ہے اور اسے مبارک باد دیتی ہے۔
  4. جب بندہ اللہ تعالیٰ کی یاد میں ہے یعنی وہ نماز میں ہے، اور اگر چہ دنیائے بازار میں ہو۔
  5. طالبِ دنیا سمندر کا پانی پینے والے کی مثل ہے، جس قدر پیتا ہے اتنی ہی زیادہ پیاس لگتی ہے۔
  6. وعظ گوئی سے پرہیز کرو جب تک خود پورے عامل نہ بن جاؤ۔
  7. جس میں ادب و احترام نہیں، اس میں برائیاں ہی برائیاں ہیں۔
  8. پیر وہ ہے جس کا مرید اپنے مال کے واسطے خواہش نہ رکھے، کیونکہ یہ مرید کی رہنمائی کے خلاف ہے۔
  9. جس نے دولت مند مریدوں کو مالداری کا تفاخر دیا، اس کی دولت اور مال کے سبب اس نے اپنے دین کا کچھ حصہ برباد کر ڈالا۔

اولادِ اظہار

سیدی مرشدی قبلہ سید عابد علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے دو صاحبزادے ہیں، جن کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں:

  1. سید اعظم علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ — جو آپ کے بعد مسندِ خلافت پر فائز ہوئے
  2. سید کاظم علی شاہ صاحب

خلفاء

  1. سید اعظم علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ

وصالِ شریف

آپ رحمۃ اللہ علیہ 11 جمادی الاول 1393 ہجری، بمطابق 13 جون 1973ء، بروزِ بدھ، نمازِ عشاء کے بعد ذکرِ حق کرتے ہوئے اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ اِنا للہ و اِنا الیہ راجعون۔

حضرت صاحبزادہ سید اعظم علی شاہ صاحب ارشاد فرماتے ہیں کہ اپنے والد کے وصال کے بعد خواب میں دیکھا کہ حضور کے سامنے اللہ تعالیٰ نے ان سے آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا، پوچھا گیا تو اللہ تعالیٰ نے معاف کر دیا۔ پھر عرض کیا کہ اس وقت آپ کہاں ہیں تو فرمانے لگے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے دربار میں، پھر عرض کیا کہ حضور نبی کریم ﷺ کی زیارت کا شرف بھی حاصل ہوا ہے، فرمانے لگے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے دربارِ عالیہ کی حاضری، حضور نبی کریم ﷺ کے دربار میں حاضری کے بعد ہی میسر ہوگی۔