تعارف و ولادت
حضرت علامہ پیر سید جعفر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت با سعادت مورخہ 04 جون 1972ء (بمطابق 22 ربیع الثانی 1392 ہجری) سید گھرانے میں ہوئی۔ آپ کے والدِ امجد قبلہ عالم حضرت علامہ پیر سید اعظم علی شاہ قدس سرہٗ نے آپ کا نام سید جعفر علی شاہ رکھا۔ آپ کی مادرِ گرامی ولیُ اللہ تھیں۔
آپ کا بچپن عام بچوں سے بالکل مختلف تھا — سنجیدگی، صفائی پسندی اور مہمان نوازی طبیعت میں شروع ہی سے تھی۔ صدق و صفا میں کامل، متابعتِ شرع و سنتِ رسول اللہ ﷺ میں کوشاں، عارف و کامل، صاحبِ احوال جلیلہ تھے۔
علومِ ظاہری و باطنی
آپ نے میٹرک کا امتحان گورنمنٹ ہائی سکول کمانوالہ شریف سے، اور انٹرمیڈیٹ کا امتحان گورنمنٹ کالج جناح اسلامیہ سیالکوٹ سے پاس کیا۔ مزید دینی تعلیم دارالعلوم دروازہ سیالکوٹ میں علامہ حافظ محمد عالم محدث سیالکوٹی رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا محمد صدیق سالک مزاروی رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کی اور تکمیل کی سند حاصل کی۔
آپ فقیہ، محدّث، محقق، مدقق، جامعِ علومِ عقلیہ و نقلیہ، اور فقہ و اصول میں مرتبۂ اجتہاد تک پہنچے ہوئے تھے۔ علومِ ظاہری و باطنی اپنے والد بزرگوار قبلہ عالم حضرت پیر سید اعظم علی شاہ قدس سرہٗ سے حاصل کیے، اور خلافت و اجازتِ بیعت سے سرفراز ہو کر ان کے صحیح جانشین ہوئے۔
تبلیغِ دین
آپ کی خطابت اور وعظ پُر تاثیر ہوا کرتی اور سامعین کے دل کی دنیا بدل جایا کرتی تھی۔ تبلیغِ دین کے لیے آپ کی زندگی وقف تھی، جس کے نتیجے میں بے شمار بھٹکے اور بے راہ روی کا شکار لوگ راہِ راست پر گامزن ہوئے۔ آپ کی گفتگو سے دل میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت جاگزیں ہوتی، اور دینِ اسلام کو اچھی طرح سمجھنے کا پتہ چلتا۔
اخلاقِ عالیہ
آپ اخلاقِ عالیہ صفاتِ حسنہ سے متصف تھے۔ اپنا ہو یا غیر، ہر ایک کے ساتھ انتہائی شفقت اور محبت سے پیش آتے۔ یتیموں، بیواؤں اور مسکینوں کی حتی الوسع مدد فرماتے۔ سرکار پیرو مرشد اکثر فرماتے کہ اگر کوئی یہ دیکھنا چاہے کہ پیر اور مرید کا رشتہ کیسا ہونا چاہیے تو وہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سیرت کا بغور مطالعہ کرے۔
توکل، عاجزی اور عفو و درگزر
سرکار پیرو مرشد جی سے توکل کے بارے میں دریافت کیا گیا تو فرمایا کہ دل اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف لگا رہے۔ اکثر فرمایا کرتے کہ اللہ رب العزت پر توکل کرنے والا شخص کبھی مفلس نہیں رہ سکتا۔ عاجزی و انکساری سرکار کا شعار تھی، اور کوتاہی یا غلطی سے تکلیف پہنچتی تو خندہ پیشانی سے برداشت فرماتے۔
محبتِ مساکین اور مہمان نوازی
آپ مسکینوں سے ہمیشہ محبت و شفقت سے پیش آتے، امیروں کی ہم نشینی سے عموماً دور رہتے۔ آپ کا لنگر عام تھا — مرید، واقف ناواقف، زائر یا محض اجنبی آپ کی نظر میں یکساں تھے۔ لنگر اور مہمان نوازی صرف عرس کے دنوں میں نہیں بلکہ عام دنوں میں بھی جاری رہتی۔ سرکار جی کے دربار سے کبھی کوئی خالی نہ گیا۔
معمولات
آپ کا معمول تھا کہ آخری تہائی شب نیند سے بیدار ہو کر نمازِ تہجد کی بارہ رکعت نفل ادا کرتے، مراقبہ اور ذکر فرماتے۔ نمازِ فجر باجماعت ادا کرتے اور بیعت کے ارادے سے حاضر ہونے والوں کو بیعت فرماتے۔ نمازِ عصر کے بعد جامع مسجد عابد میں ختم خواجگان پڑھا کرتے۔ ہر اتوار صبح ختم خواجگان دوستوں کے ساتھ پڑھتے اور درسِ قرآن بھی دیا کرتے۔
زیارتِ حرمین شریفین
آپ کو اپنی حیاتِ مبارکہ میں تین دفعہ عمرہ کی سعادتِ عظمیٰ نصیب ہوئی۔ حج کی تیاریاں مکمل تھیں مگر شدید بیماری اور جسمانی کمزوری کی وجہ سے حج کی ادائیگی نہ ہو سکی اور اس دارِ فانی سے پردہ فرما لیا۔
سالانہ عرسِ مبارک
قطب الاقطاب حضرت علامہ پیر سید جعفر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے والدِ ماجد، حضرت پیر سید عابد علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت پیر سید راجن علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کا اجتماعی سالانہ عرسِ مبارک 23-24 جون کو آستانہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کمانوالہ شریف سیالکوٹ میں منعقد ہوتا ہے۔ ملک بھر سے ہزاروں عقیدت مند، علماءِ کرام اور نعت خواں حضرات شرکت کرتے ہیں۔
وصال پر ملال
آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنی عمر شریف کے آخری ایام میں اکثر بیمار رہنے لگے اور رضا بر رضا تھے۔ تاریخِ وصالِ باکمال بروزِ جمعۃ المبارک 30 ربیع الاول 1440 ہجری، بمطابق 7 دسمبر 2018ء ہے۔ نمازِ جنازہ مورخہ 8 دسمبر 2018 بروزِ ہفتہ دوپہر 12:30 بجے کمانوالہ شریف سیالکوٹ میں ادا کی گئی۔
ارشاداتِ قدسیہ
- جسے اللہ تعالیٰ اپنی محبت دیتا ہے پھر کسی چیز کی خواہش نہیں رہتی۔
- دنیا کی کوئی چیز اتنی شفاف نہیں جتنا شفاف وہ دل ہے جس پر اللہ اور اس کے حبیب ﷺ کی محبت قابض ہے۔
- بڑا انسان وہ ہے جس کی محفل میں کوئی خود کو چھوٹا نہ سمجھے۔
- جسم کو مت سنوارو بلکہ اپنی روح کو سنوارو جسے خدا کے پاس جانا ہے۔
- آنسو اور مسکراہٹ دو انمول خزانے ہیں — آنسو صرف اللہ کے سامنے بہاؤ اور مسکراہٹیں اس کی مخلوق میں بانٹو۔
- انسان کو اللہ کریم کا قرب عقل سے نہیں عشق سے ملتا ہے۔
- اخلاق سورج کی وہ روشنی ہے جس سے بدی کا اندھیرا غائب ہو جاتا ہے۔
- جو شخص مطمئن رہتا ہے وہ سب سے زیادہ دولتمند ہے۔
- محبت اور عبادت بتائی نہیں جاتی، بس کی جاتی ہے۔
- دس دعوے کرنے کی بجائے ایک عملی قدم لینا بہتر ہے۔
اولادِ اطہار
- حضرت صاحبزادہ پیر سید عون رضا شاہ مدظلہ العالی — سجادہ نشین آستانہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کمانوالہ شریف سیالکوٹ
- صاحبزادہ سید عتیق رضا شاہ
- صاحبزادہ سید علی اکبر شاہ

