أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
→ تمام مشائخ
حضرت پیر سید راجن علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ
قطب العالم مجدد، آفتابِ شہنشاہِ ولایت، زبدۃ العارفین، سید السالکین، عارف شریعت، رازدار حقیقت، شارح مریداں، قبلہ عالم

حضرت پیر سید راجن علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ

بانیِ آستانہ — کمانوالہ شریف، سیالکوٹ

تعارف

زبدۃ العارفین، سید السالکین، پیر طریقت، عارف شریعت، رازدار اسرارِ حقیقت، منبعِ رشدوہدایت، قبلہ عالم حضرت پیر سید راجن علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کے مشہور صوفی اور صاحبِ حال بزرگ تھے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ شہر سیالکوٹ کے قریب واقع کمانوالہ میں رہائش پذیر تھے اور سادات کے عالی شان گھرانے سے تعلق تھا۔

مشرب کے لحاظ سے آپ رحمۃ اللہ علیہ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے طریقِ حنفیؒ پر تھے اور عقیدہ میں اہلِ سنت والجماعت پر تھے۔ تصوف میں آپ رحمۃ اللہ علیہ کا طریقہ اور بیعت شیخ کامل عارف طریقت حضرت خواجہ حافظ عبدالکریم رحمۃ اللہ علیہ سے تھی، اور حافظ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی بیعت حضرت خواجہ نور محمد رحمۃ اللہ علیہ سے تھی۔ اس طرح آپ رحمۃ اللہ علیہ کا سلسلہ نسب جناب سرکار دوعالم فخرِ موجودات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے جا ملتا ہے۔

بیعت

شروع میں آپ رحمۃ اللہ علیہ محکمہ فوجی ہسپتال میں ملازم تھے، مگر دل میں طلبِ حق کا ولولہ پہلے سے موجود تھا۔ قبلہ عالم حافظ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے اوصافِ حمیدہ اور کمالات سن کر بڑے ذوق و شوق سے حاضرِ خدمت ہوئے۔ حافظ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے خوش ہو کر پوچھا کہ راجن علی شاہ کیا مانگتے ہو؟ عرض کیا: حضور ﷺ کے در کی غلامی۔ تین بار یہی سوال ہوا اور تین بار یہی جواب۔ قبلہ عالم حافظ صاحب رحمۃ اللہ علیہ خوش ہو کر آپ کو سینے سے لگا لیا اور فرمایا کہ تم نے دونوں جہان کی دولت لوٹ لی، اور ساتھ ہی خلافت و اجازت سے نوازا۔

شریعت کی پابندی

آپ رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی شریعتِ مصطفیٰ ﷺ کی متبع تھی۔ قدم قدم پر شریعتِ مصطفیٰ ﷺ کی پابندی کا لحاظ رکھتے اور مریدین کو بھی اسی کی تلقین فرماتے۔ جہاں کہیں شریعت کی خلاف ورزی دیکھتے وہاں سختی سے اس کا انسداد فرماتے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جو آدمی شریعتِ مصطفیٰ ﷺ کی خلاف ورزی کرتا ہے وہ ہرگز سید اور درویش نہیں ہو سکتا، بلکہ سید وہ ہے جس کی زندگی حضور نبی کریم ﷺ کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق ہو۔

کشف و کرامات

نامی سنگھ کا قصہ

ضلع سرگودھا کے ایک گاؤں میں نامی سنگھ نامی مالدار سکھ رہتا تھا، جو علاقے کا چودھری تھا۔ اس نے اپنے چچا کو کسی دیرینہ دشمنی کی بنا پر قتل کر دیا۔ مقتول کے وارثوں نے نامی سنگھ کے خلاف عدالت میں مقدمہ درج کروا دیا۔ نامی سنگھ اپنے پیرو مرشد سرکار کی زیارت کے لیے کمانوالہ شریف حاضر ہوا اور دعا کی درخواست کی۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کی دعا اور دربار کی برکت سے مقدمہ اس کے حق میں فیصلہ ہوا۔

اندھے پن کی کرامت

ایک شخص نے آپ رحمۃ اللہ علیہ کے کسی مرید پر جھوٹی شکایت کی۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے تنبیہ کی کہ اگر یہ جھوٹا الزام ثابت نہ ہوا تو انجام بھگتنا ہوگا۔ وہ شخص باز نہ آیا، یہاں تک کہ اس کی آنکھوں کی بینائی جاتی رہی۔ بعد میں شرمندہ ہو کر معافی مانگی اور آپ رحمۃ اللہ علیہ کی دعا سے بینائی واپس آئی۔

نبی کریم ﷺ کی زیارت

سمبڑیال کے مولوی محمد دین چنگا، جو آپ رحمۃ اللہ علیہ کے خاص خلفاء میں سے تھے، بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت صاحب رحمۃ اللہ علیہ سمبڑیال تشریف لائے۔ محمد دین نے حضور ﷺ کی زیارت کی تمنا ظاہر کی۔ حضرت صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اگر اللہ نے چاہا تو تمہیں حضور ﷺ کی زیارت ضرور نصیب ہوگی۔ کچھ دنوں بعد خواب میں نبی کریم ﷺ کی زیارت سے سرفراز ہوئے۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ سید چراغ علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی زبانی بھی متعدد کرامات مروی ہیں، جن میں بہاولوال کے سفر کا واقعہ اور ملکوال ریلوے اسٹیشن سے سیالکوٹ واپسی کا قصہ شامل ہیں۔

ارشاداتِ قدسیہ

  1. سب سے بڑی کرامت سنتِ مصطفیٰ ﷺ کی پیروی ہے۔
  2. استقامت حاصل کرو، تمہارا ہر کام کرامت بن جائے گا۔
  3. دنیا کے مال کے بھوکے کو کبھی حقیقی راحت نہیں مل سکتی۔
  4. عابد کو کھانا کھلانا عبادت میں مدد کرنا ہے، اور فاسق کو کھانا کھلانا فسق کی مدد کرنا ہے۔
  5. دولت مند پیغمبر کو جھٹلاتے رہے، اور مسکین غریب ہی ان کی تصدیق کرتے رہے ہیں۔
  6. کرامت کا مفہوم یہ ہے کہ ولی درخت سے بات کرے تو درخت اس کو جواب دے۔
  7. جوانی کے دھوکے میں نہ آؤ، کیونکہ بوڑھا ہونے سے پہلے کئی جوان گزر چکے ہیں۔
  8. عبادت ایسی کرو کہ تمہاری روح کو مزا آ جائے۔
  9. اللہ تعالیٰ کی اطاعت اپنی جان پر جبر کیے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔
  10. اسلام غریبوں میں ظاہر ہوا اور عنقریب غریبوں میں ہی رہ جائے گا۔

اولاد اور جانشینی

آپ رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں اولاد نہیں تھی۔ خلیفہ سید چراغ علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے اصرار پر شیخ صاحب کی خدمت میں اولاد کے لیے دعا کروائی گئی۔ حضرت صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے مراقبہ کے بعد ارشاد فرمایا کہ اللہ ایک نیک اولاد عطا کرے گا، جس کا نام غلام حسین رکھنا اور وہی جانشین ہوگا۔ کچھ عرصہ بعد چراغ علی شاہ کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا جو ان کی وفات کے بعد جانشین ہوا۔

خلفاء

  1. سید عابد علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ
  2. سید چراغ علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ